ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / شہریت قانون کی مخالفت اورمنگلورمیں پولس کے ساتھ جھڑپ میں ہلاک ہونے والوں کے نام پولیس کی ایف آئی آر میں شامل

شہریت قانون کی مخالفت اورمنگلورمیں پولس کے ساتھ جھڑپ میں ہلاک ہونے والوں کے نام پولیس کی ایف آئی آر میں شامل

Sun, 22 Dec 2019 10:24:36    S.O. News Service

منگلورو22/دسمبر (ایس او نیوز)شہریت ترمیمی قانون کے خلاف منگلورو میں احتجاج کے دوران پولس کے ساتھ جو جھڑپ ہوئی تھی اس میں پولیس فائرنگ سے ہلاک ہونے والے دونوں نوجوانوں کو پولیس نے اپنے ایف آئی آر میں فسادیوں کی فہرست میں شامل کرلیا ہے۔

 پتہ چلا ہے کہ بندر پولیس اسٹیشن میں فسادیوں کے خلاف درج کی گئی پولیس کی ایف آئی آر میں جملہ 29افراد کو ملزم بنایا گیا ہے جن میں عبدالجلیل اور نوشین کے نام بھی شام ہیں جو پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے تھے۔عبدالجلیل کو ملزم نمبر۳ اورنوشین کو ملزم نمبر ۸ بتایا گیا ہے۔سٹی پولیس کمشنر پی ایس ہرشا نے اخبار نویسوں کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ19دسمبر کو 6ہزار سے 7ہزار افراد پر مشتمل بے قابو ہجوم نے بندر پولیس اسٹیشن کو جلانے اور پولیس افسران کو جان سے مارڈالنے کی کوشش کی تھی۔جبکہ ڈی سی پی ارونمشو گری کی طرف سے دائر کی گئی ایف آئی آر کے مطابق ہجوم کی تعداد1,500سے 2000کے قریب تھی۔

 منگلورو ساؤتھ میں احتجاجیوں کے خلاف جو دوسری ایف آئی آر داخل کی گئی ہے اس میں 45افراد کو ملزم بنایاگیا ہے۔ اب تک مختلف پولیس اسٹیشنوں میں 7 ایف آئی آر داخل کی گئی ہیں اورجملہ 400سے زائد نامعلوم فسادیوں کو نامزد کیا گیا ہے۔ عبدالجلیل کو ایف آئی آر میں احتجاجی ہجوم میں شامل ملزم بتایا گیا ہے جبکہ میڈیا کا ایک طبقہ بتاتا ہے کہ وہ احتجاج میں شامل تھا ہی نہیں بلکہ وہ کنارے کھڑے ہوکر اپنے بچوں کے اسکول سے واپس لوٹنے کا انتظار کررہا تھا۔ جہاں تک نوشین کی بات ہے وہ تو روزانہ مزدوری کرنے والا فرد تھا اور اپنے کام سے واپس گھر کی طرف لوٹ رہا تھا۔وزیرا علیٰ ایڈی یورپا نے اپنے منگلورو کے دوران عبدالجلیل اور نوشین کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنرکو ہدایت کی کہ متاثرہ خاندانوں کو مناسب معاوضہ دیا جائے۔

 پولیس نے جو مختلف ایف آئی آر داخل کی ہیں ان میں کئی مسلم تنظیموں اور اداروں کو اس تشدد کا ذمہ دار بتایاگیا ہے جس میں پی ایف آئی اور ایس ڈی پی آئی کا نام بھی شامل ہے۔
 


Share: